نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ اللہ کے رسولﷺ نے ایک بار اپنے صحابہؓ سے فرمایا کہمیں تمیں بتاؤں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرنے والا کون ہے ؟اور پھر فرمایا کہ جسے یہ پسند ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا وہ پیارا بن جائے اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے پیار کرنے والا بن جائے تو وہ زندگی میں جب بھی بولے ہمیشہ سچ بولے ،جب بھی کوئی معاملہ کرے تو امانت داری سے کرے دھوکہ نہ کرے اور جہاں رہتا ہے وہاں پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرے ‘‘یہی آج کے دن کا پیغام محبت ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج پورے ملک میں سچائی نہیں ہے ،امانت اور دیانت داری نہیں ہے ،یہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑے ہیں،ہم اللہ کے محبوب ﷺ کی صرف اس ایک حدیث کو زندہ کر دیں تو ہماری زندگی کی رونقیں لوٹ آئیں ،محبتیں بھی لوٹ آئیں اور اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے بھی پیارے بن جائیں ۔انہوں نے کہا کہ تبدیلی کی ابتدا اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے ،ہماری شریعت ہمیں براہ راست مخاطب کرتی ہے ،میرا اللہ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ’’آپﷺ ان سے کہئے کہ سب سے پہلا مسلمان میں ہوں، میں تمیں اللہ کی مان کر دکھاؤں گا پھر تم اس کے مطابق کرو‘‘ یہ بات اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے کہ معاشرے کے تمام مرد و خواتین اور چھوٹے بڑے اپنے آپ کو صرف ان تین باتوں پر ہی لے آئیں ،تبدیلی کے لئے بہت بڑی محنت کی ضرورت ہے ،ہر آدمی کو اپنی ذات سے اور دوسرا والدین اپنی گود میں بچوں کو سچ بولنا، دیانت داری اور محبت سکھائیں ،دوسرا ہمارے تعلیمی ادارے دینی ہوں یا دنیاوی ہوں وہ یہ درس دیں، تیسرا آپس میں ایک دوسرے کو اس بات کے لئے تیار کیا جائے ، علما منبر سے اور یونیورسٹیز ،کالجز اور سکول اپنے لیکچرز سے طلبا کو سکھائیں ،پھر تبدیلی کی کوئی شکل بن سکتی ہے ورنہ یہ کوئی ’’چھو منتر ‘‘ تو ہے نہیں کہ ایک دم سے تبدیلی آ جائے اور نہ ہی کسی کو زبردستی ڈنڈے کے زور پر سچ کے راستے پر لایا جاسکتا ہے۔مولانا طارق جمیل نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی سے بڑی روادری کس نے سکھائی ہے ؟پہلی ہستی جس نے دنیا میں جنگ کے قوانین، قوائد اور اصول بنائے وہ آپ ﷺ تھے ،جس لشکر کو بھی آپﷺ روانہ فرماتے تھے آپ ﷺ کی طرف سے واضح ہدایات ہوتی تھیں کہ بچوں ،عورتوں اور بوڑھوں کو قتل نہیں کرنا ،کسی کی عبادت گاہوں کو نہیں گرانا ،عیسائی عبادت گاہوں کے راہبوں کو قتل نہیں کرنا ،فصلوں کو نہیں روندنا ،درخت نہیں کاٹنا اور نہ ہی انہیں آگ لگانا ،یہ سارے جنگی اصول تو میرے نبی کریم ﷺ نے دیئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی ذمہ داری والدین کی ہے ،ان کی گود سے یہ ذمہ داری شروع ہوتی ہے پھر اہل علم اور علما فرقہ واریت کی باتیں چھوڑ کر اس چیز کو اجاگر کریں ،حکومت اپنے لیول پر اور لوگ اپنے لیول پر یہ کام کریں تو پھر کوئی بات بنے گی ۔انہوں نے کہا کہ علما کی ذمہ داری ہے کہ امت کو فرقہ واریت سے نکالیں اور اللہ کے فضل سے ہر مکتبہ فکر میں ایسے صلح پسند لوگ ہیں لیکن ہر مکتبہ فکر کے خطیب حضرات اتنے جوشیلے ہیں کہ وہ دوسروں کو کافر ٹھہرانا ہی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں ،اللہ ان کو سمجھ دے تاکہ وہ پیغام محبت کو عام کریں ۔
مسجد میں نماز پڑھنے جائیں تو کبھی کبھا رآپ نے پہلی صف سے ایک بندے کو کھڑے ہوکر یہ اعلان کرتے سنا ہوگا ''میری اورآپ کی بلکہ پورے عالم کی کامیابی اللہ نے اپنے دین میں رکھی ہے ،یہ دین ہماری زندگیوں میں کیسے آئے گا اس کیلئے ایک زبردست محنت کی ضرورت ہے ،ابھی کچھ دیر بعد اسی محنت کے بارے میں بات ہوگی تمام حضرات تشریف رکھیں انشااللہ بہت نفع ہوگا''اور پھر نماز کی بقیہ رکعات کے بعد ایک شخص کھڑا ہوکرکچھ دیر گفتگو کرتا ہے جس میں نہ تو خودنمائی ہوتی ہے ،نہ سیاست اور نہ ہی کسی قسم کی دنیاوی غرض و مارکیٹنگ کا عنصر اس بات چیت میں کہیں نظر آتا ہے بلکہ اس مقرر کی گفتگو ایک ہی نقطے کے گرد گھومتی ہے کہ'' اللہ سے ہوتا ہے اور اللہ کے غیر سے کچھ نہیں ہوتااور حضور نبی کریم ﷺ کے طریقوں پر چل کر دنیا و آخرت کی کامیابی ممکن ہے ورنہ ناکامی ہی ناکامی ہے'' جی ہاں یہ تبلیغی جماعت ہوتی ہے جو میڈیا کے جھنجٹ سے کوسوں دور رہنے کے باوجوددنیا کی سب سے بڑی اصلاحی تحریک بن چکی ہے۔ بلاشبہ اس تحریک کی کامیابی میں اس جماعت کے ذمہ داران کی پرخلوص محنت اور قربانیوں کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے کیوں کہ اللہ قربانی کے بعد اور قربانی کے بقدرہی کامیابیوں سے نوازتا ہے۔گزشتہ روز اس جماعت کیساتھ پون صدی سے وابستہ عظیم مبلغ اور مصلح امت حاجی عبدالوھاب دنیائے فانی سے کوچ کرگئے ۔اناللہ واناالیہ راجعون ۔بلاشبہ یہ اللہ کا نظام ہے کہ ہر جان کو موت کا ذائقہ چھکنا ہے جو بھی دنیا میں آیا ہے اسے لوٹ کر اللہ کے پاس جانا ہے اسی لئے تو کہتے ہیں ۔
Tags
# نام
مکمل تحریر پڑھیں
مسجد میں نماز پڑھنے جائیں تو کبھی کبھا رآپ نے پہلی صف سے ایک بندے کو کھڑے ہوکر یہ اعلان کرتے سنا ہوگا ''میری اورآپ کی بلکہ پورے عالم کی کامیابی اللہ نے اپنے دین میں رکھی ہے ،یہ دین ہماری زندگیوں میں کیسے آئے گا اس کیلئے ایک زبردست محنت کی ضرورت ہے ،ابھی کچھ دیر بعد اسی محنت کے بارے میں بات ہوگی تمام حضرات تشریف رکھیں انشااللہ بہت نفع ہوگا''اور پھر نماز کی بقیہ رکعات کے بعد ایک شخص کھڑا ہوکرکچھ دیر گفتگو کرتا ہے جس میں نہ تو خودنمائی ہوتی ہے ،نہ سیاست اور نہ ہی کسی قسم کی دنیاوی غرض و مارکیٹنگ کا عنصر اس بات چیت میں کہیں نظر آتا ہے بلکہ اس مقرر کی گفتگو ایک ہی نقطے کے گرد گھومتی ہے کہ'' اللہ سے ہوتا ہے اور اللہ کے غیر سے کچھ نہیں ہوتااور حضور نبی کریم ﷺ کے طریقوں پر چل کر دنیا و آخرت کی کامیابی ممکن ہے ورنہ ناکامی ہی ناکامی ہے'' جی ہاں یہ تبلیغی جماعت ہوتی ہے جو میڈیا کے جھنجٹ سے کوسوں دور رہنے کے باوجوددنیا کی سب سے بڑی اصلاحی تحریک بن چکی ہے۔ بلاشبہ اس تحریک کی کامیابی میں اس جماعت کے ذمہ داران کی پرخلوص محنت اور قربانیوں کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے کیوں کہ اللہ قربانی کے بعد اور قربانی کے بقدرہی کامیابیوں سے نوازتا ہے۔گزشتہ روز اس جماعت کیساتھ پون صدی سے وابستہ عظیم مبلغ اور مصلح امت حاجی عبدالوھاب دنیائے فانی سے کوچ کرگئے ۔اناللہ واناالیہ راجعون ۔بلاشبہ یہ اللہ کا نظام ہے کہ ہر جان کو موت کا ذائقہ چھکنا ہے جو بھی دنیا میں آیا ہے اسے لوٹ کر اللہ کے پاس جانا ہے اسی لئے تو کہتے ہیں ۔
Tags
# نام
مکمل تحریر پڑھیں
مسجد میں نماز پڑھنے جائیں تو کبھی کبھا رآپ نے پہلی صف سے ایک بندے کو کھڑے ہوکر یہ اعلان کرتے سنا ہوگا ''میری اورآپ کی بلکہ پورے عالم کی کامیابی اللہ نے اپنے دین میں رکھی ہے ،یہ دین ہماری زندگیوں میں کیسے آئے گا اس کیلئے ایک زبردست محنت کی ضرورت ہے ،ابھی کچھ دیر بعد اسی محنت کے بارے میں بات ہوگی تمام حضرات تشریف رکھیں انشااللہ بہت نفع ہوگا''اور پھر نماز کی بقیہ رکعات کے بعد ایک شخص کھڑا ہوکرکچھ دیر گفتگو کرتا ہے جس میں نہ تو خودنمائی ہوتی ہے ،نہ سیاست اور نہ ہی کسی قسم کی دنیاوی غرض و مارکیٹنگ کا عنصر اس بات چیت میں کہیں نظر آتا ہے بلکہ اس مقرر کی گفتگو ایک ہی نقطے کے گرد گھومتی ہے کہ'' اللہ سے ہوتا ہے اور اللہ کے غیر سے کچھ نہیں ہوتااور حضور نبی کریم ﷺ کے طریقوں پر چل کر دنیا و آخرت کی کامیابی ممکن ہے ورنہ ناکامی ہی ناکامی ہے'' جی ہاں یہ تبلیغی جماعت ہوتی ہے جو میڈیا کے جھنجٹ سے کوسوں دور رہنے کے باوجوددنیا کی سب سے بڑی اصلاحی تحریک بن چکی ہے۔ بلاشبہ اس تحریک کی کامیابی میں اس جماعت کے ذمہ داران کی پرخلوص محنت اور قربانیوں کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے کیوں کہ اللہ قربانی کے بعد اور قربانی کے بقدرہی کامیابیوں سے نوازتا ہے۔گزشتہ روز اس جماعت کیساتھ پون صدی سے وابستہ عظیم مبلغ اور مصلح امت حاجی عبدالوھاب دنیائے فانی سے کوچ کرگئے ۔اناللہ واناالیہ راجعون ۔بلاشبہ یہ اللہ کا نظام ہے کہ ہر جان کو موت کا ذائقہ چھکنا ہے جو بھی دنیا میں آیا ہے اسے لوٹ کر اللہ کے پاس جانا ہے اسی لئے تو کہتے ہیں ۔
Tags
# نام
مکمل تحریر پڑھیں